میر تقی میر میر تقی میر

مکتوب دیر پہنچا پر دو طرف سے سادہ

مکتوب دیر پہنچا پر دو طرف سے سادہ کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ جب میکدے گئے ہیں پابوس ہی کیا ہے ہے مغبچہ ہمارا گویا کہ پیرزادہ سائے میں تاک کے ہم خوش بیٹھے ہیں اب اپنا اس سلسلے میں بیعت کرنے کا ہے ارادہ دل اس قدر نہ رکتا گھبراتا جی نہ اپنا چھاتی لگا جو رہتا وہ سینۂ کشادہ شیشہ کنار جو ہے پنبہ دہان و رعنا میناے مے چمن میں اک سرو ہے پیادہ پڑتی ہیں اس کی آنکھیں چاروں طرف نشے میں جوں راہ میں بہکتے ہوں ترک مست بادہ جو شہرہ نامور تھے یارب کہاں گئے وے آباد کم رہا ہے یاں کوئی خانوادہ مت دم کشی کر اتنی ہنگام صبح بلبل فریاد خونچکاں ہے منھ سے ترے زیادہ کیا خاک سے اٹھوں میں نقش قدم سا بیٹھا اب مٹ ہی جانا میرا ہے پیش پا فتادہ حالات عشق رنج و درد و بلا مصیبت دل دادہ میر جانے کیا جانے کوئی ندادہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR