میر تقی میر میر تقی میر

مرتے ہیں ہم تو اس صنم خودنما کے ساتھ

مرتے ہیں ہم تو اس صنم خودنما کے ساتھ جیتے ہیں وے ہی لوگ جو تھے کچھ خدا کے ساتھ دیکھیں تو کار بستہ کی کب تک کھلے گرہ دل بستگی ہے یار کے بند قبا کے ساتھ اے کاش فصل گل میں گئی ہوتی اپنی جان مل جاتی یہ ہوا کوئی دن اس ہوا کے ساتھ مدت ہوئی موئے گئے ہم کو پر اب تلک اڑتی پھرے ہے خاک ہماری صبا کے ساتھ ہم رہتے اس کے محو تو وہ کرتا ہم کو سہو ہرگز وفا نہ کرنی تھی اس بے وفا کے ساتھ کیفیت آشنا نہیں اس مست ناز کی معشوق ورنہ کون ہے اب اس ادا کے ساتھ منھ اپنا ان نے عکس سے اپنے چھپا لیا دیکھا نہ کوئی آئینہ رو اس حیا کے ساتھ ٹھہرا ہے رونا آٹھ پہر کا مرا علاج تسکین دل ہے یعنی کچھ اب اس دوا کے ساتھ تھا جذب آگے عشق سے جو ہر نفس میں میر اب وہ کشش نہیں ہے سحر کی دعا کے ساتھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR