میر تقی میر میر تقی میر

ہر چند جذب عشق سے تشریف یاں بھی لائے وہ

ہر چند جذب عشق سے تشریف یاں بھی لائے وہ پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ خوبی و رعنائی ادھر بدحالی و خواری ادھر اے وائے ہم اے وائے ہم اے ہائے وہ اے ہائے وہ مارا ہوا چاہت کا جو آوارہ گھر سے اپنے ہو حیراں پریشاں پھر کے پھر کیا جانے کیدھر جائے وہ جی کتنا محو و رفتہ کا جو ہو طرف دیکھے تجھے تو کج کرے ابرو اگر پل مارتے مرجائے وہ الفت نہیں مجھ سے اسے کلفت کا میری غم نہیں پاے غرض ہو درمیاں تو چل کے یاں بھی آئے وہ عاشق کا کتنا حوصلہ یہ معجزہ ہے عشق کا جو خستہ جاں پارہ جگر سو داغ دل پر کھائے وہ مشکل عجائب میر ہے دیدار جوئی یار کی دیکھے کوئی کیا اس کو جو آنکھیں لڑے شرمائے وہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR