میر تقی میر میر تقی میر

کیونکے نیچے ہاتھ کے رکھا دل بیتاب کو

کیونکے نیچے ہاتھ کے رکھا دل بیتاب کو وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو کم نہیں ہے سحر سے یہ بھی تصرف عشق کا پانی کر آنکھوں میں لایا دل کے خون ناب کو تھا یہی سرمایۂ بحر بلا پچھلے دنوں چشم کم سے دیکھو مت اس دیدئہ پرآب کو تو کہے تھی برق خاطف ناگہاں آکر گری اک نگہ سے مار رکھا ان نے شیخ و شاب کو کیا سفیدی دیکھی اس کی آستیں کے چاک سے جس کے آگے رو نہ تھا کچھ پرتو مہتاب کو چاہتا ہے جب مسبب آپھی ہوتا ہے سبب دخل اس عالم میں کیا ہے عالم اسباب کو دم بخود رہتا ہوں اکثر سر رکھے زانو پہ میر حال کہہ کر کیا کروں آزردہ اور احباب کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR