میر تقی میر میر تقی میر

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں وصل میں اس کے روز و شب کیا خوب گذرتی تھی اپنی ہجراں کا کچھ اور سماں ہے اب وہ لیل و نہار نہیں خالی پڑے ہیں دام کہیں یا صید دشتی صید ہوئے یا جس صید افگن کے لیے تھے اس کو ذوق شکار نہیں سبزہ خط کا گرد گل رو بڑھ کانوں کے پار ہوا دل کی لاگ اب اپنی ہو کیونکر وہ اس منھ پہ بہار نہیں لطف عمیم اس کا ہی ہمدم کیوں نہ غنیمت جانیں ہم ربط خاص کسو سے اسے ہو یہ تو طور یار نہیں عشق میں اس بے چشم و رو کے طرفہ رویت پیدا کی کس دن اودھر سے اب ہم پر گالی جھڑکی مار نہیں مشتاق اس کے راہ گذر پر برسوں کیوں نہ بیٹھیں میر ان نے راہ اب اور نکالی ایدھر اس کا گذار نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR