میر تقی میر میر تقی میر

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں غیرت سے نام اس کا آیا نہیں زباں پر آگے خدا کے جب ہم محو دعا ہوئے ہیں اہل چمن سے کیونکر اپنی ہو روشناسی برسوں اسیر رہ کر اب ہم رہا ہوئے ہیں بے عشق خوب رویاں اپنی نہیں گذرتی اے وائے کس بلا میں ہم مبتلا ہوئے ہیں جانا کہ تن میں ہر جا نازک ہے اور دلکش ہم رفتۂ سراپا اس کے بجا ہوئے ہیں تھے غنچے جتنے زیر دیوار باغ طائر شب باشی چمن سے شاید خفا ہوئے ہیں صرفہ قمیص کا ہے کیا وقر اس گلی میں ترک لباس کر واں شاہاں گدا ہوئے ہیں خاموش اس کے در پر ہوکر فقیر بیٹھے یعنی کہ عاشقی میں ہم بے نوا ہوئے ہیں عہد شباب گذرا شرب مدام ہی میں ہم کہنہ سال ہوکر اب پارسا ہوئے ہیں اظہار کم فراغی ہردم کی بے دماغی ان روزوں میر صاحب کچھ میرزا ہوئے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR