میر تقی میر میر تقی میر

وے ہم ہیں جن کو کہیے آزار دیدہ مردم

وے ہم ہیں جن کو کہیے آزار دیدہ مردم الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم ہے حال اپنا درہم تس پر ہے عشق کا غم رہتے ہیں دم بخود ہم آفت رسیدہ مردم وہ دیکھے ہم کو آکر جن نے نہ دیکھے ہوویں آزردہ دل شکستہ خاطر کبیدہ مردم جو ہے سو لوہو مائل بے طور اور جاہل اہل جہاں ہیں سارے صحبت نہ دیدہ مردم جاتے ہیں اس کی جانب مانند تیر سیدھے مثل کمان حلقہ قامت خمیدہ مردم اوباش بھی ہمارا کتنا ہے ٹیڑھا بانکا دیکھ اس کو ہو گئے ہیں کیا کیا کشیدہ مردم مت خاک عاشقاں پر پھر آب زندگی سا جاگیں کہیں نہ سوتے یہ آرمیدہ مردم لے لے کے منھ میں تنکا ملتے ہیں عاجزانہ مغرور سے ہمارے برخویش چیدہ مردم تھے دست بستہ حاضر خدمت میں میر گویا سیمیں تنوں کے عاشق ہیں زرخریدہ مردم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR