میر تقی میر میر تقی میر

کڑھتے جو رہے ہجر میں بیمار ہوئے ہم

کڑھتے جو رہے ہجر میں بیمار ہوئے ہم بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم بہلانے کو دل باغ میں آئے تھے سو بلبل چلانے لگی ایسے کہ بیزار ہوئے ہم جلتے ہیں کھڑے دھوپ میں جب جاتے ہیں اودھر عاشق نہ ہوئے اس کے گنہگار ہوئے ہم اک عمر دعا کرتے رہے یار کو دن رات دشنام کے اب اس کے سزاوار ہوئے ہم ہم دام بہت وحشی طبیعت تھے اٹھے سب تھی چوٹ جو دل پر سو گرفتار ہوئے ہم چیتے ہوئے لوگوں کی بھلی یا بری گذری افسوس بہت دیر خبردار ہوئے ہم کیا کیا متمول گئے بک دیکھتے جس پر بیعانگی میں اس کے خریدار ہوئے ہم کچھ پاس نہیں یاری کا ان خوش پسروں کو اس دشمن جانہا سے عبث یار ہوئے ہم گھٹ گھٹ کے جہاں میں رہے جب میر سے مرتے تب یاں کے کچھ اک واقف اسرار ہوئے ہم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR