میر تقی میر میر تقی میر

عشق کیا ہے اس گل کا یا آفت لائے سرپرہم

عشق کیا ہے اس گل کا یا آفت لائے سرپرہم جھانکتے اس کو ساتھ صباکے صبح پھریں ہیں گھر گھر ہم روز و شب کو اپنے یارب کیونکے کریں گے روزوشب ہاتھ رکھے رہتے ہیں دل پر بیتابی میں اکثر ہم پوچھتے راہ شکستہ دل کی جا نکلے تھے کعبے میں سوچ وہاں تو گذرا جی میں آئے کدھر سے کیدھر ہم شام سے کرتا منزل آکر گھر کو ہمارے صدر نشیں رکھتے ستارہ اس مہ وش کی چاہ میں گربد اختر ہم برسوں خس و خاشاک پہ سوئے مدت گلخن تابی کی بخت نہ جاگے جو اس سے ہوں ایک بھی شب ہم بستر ہم روز بتر ہے حالت عشقی جیسے ہوں بیمار اجل ہے نہ دوا نے کوئی معالج کیونکر ہوں گے بہتر ہم اس کی جناب سے رحمت ہو تو جی بچتا ہے دنیا میں اس جانب سے تو بیٹھے ہیں مرنا کرکے مقرر ہم اب تو ہماری طرف سے اتنا دل کو پتھر مت کریو سختی سے ایام کی اب تک جیتے رہے ہیں مرمرہم آہ معیشت روز و شب کی ساتھ اندوہ کے ٹھہری ہے روتے کڑھتے رہا کرتے ہیں غم سے ہوئے ہیں خوگر ہم شعلہ ایک اٹھا تھا دل سے آہ عالم سوز کا میر ڈھیری ہوئی ہے خاکستر کی جیسی شب میں جل کر ہم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR