میر تقی میر میر تقی میر

اس کی رہے گی گرمی بازار کب تلک

اس کی رہے گی گرمی بازار کب تلک وہ بیچتا رہے گا خریدار کب تلک عہد و وعید حشر قیامت ہے دیکھیے جیتے رہیں گے طالب دیدار کب تلک دل کا جگر کا لوہو تو غم نے سکھا دیا آنکھیں رہیں گی دیکھیے خونبار کب تلک نسبت بہت گناہوں کی کرتا ہے اس طرف بے جرم ہم رہیں گے گنہگار کب تلک اس کی نگاہ مست ہے اکثر سوے رباط صوفی رہیں گے حال سے ہشیار کب تلک دیوار و در بڑے تھے جہاں واں نشاں نہیں یاں خانوادوں کے رہیں آثار کب تلک مہمان کوئی دن کا ہے وارفتہ عشق کا ظاہر ہے حال سے کہ یہ بیمار کب تلک ترسا کے مارنے میں عذاب شدید ہے اک کھینچ کر نہ ماروگے تلوار کب تلک صیاد اسیر کرکے جسے اٹھ گیا ہو میر وہ دام کی شکن میں گرفتار کب تلک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR