میر تقی میر میر تقی میر

زانو پہ سر ہے اکثر مت فکر اس قدر کر

زانو پہ سر ہے اکثر مت فکر اس قدر کر دل کوئی لے گیا ہے تو میر ٹک جگر کر خورشید و ماہ دونوں آخر نہ دل سے نکلے آنکھوں میں پھر نہ آئے جی سے مرے اتر کر یوسف عزیز دلہا جا مصر میں ہوا تھا ذلت جو ہو وطن میں تو کوئی دن سفر کر اے ہمنشیں غشی ہے میں ہوش میں نہیں ہوں مجھ کو مری زبانی سو بار اب خبر کر کیا حال زار عاشق کریے بیاں نہ پوچھو کرتا ہے بات کوئی دل کی تو چشم تر کر دیتے نہیں ہیں سونے ٹک آہ و نالے اس کے یارب شب جدائی عاشق کی بھی سحر کر اتنا ہی منھ چھپایا شوخ اس کے محرموں نے جو بچھ گئی ہیں زلفیں اس چہرے پر بکھر کر کیا پھیر پھیر گردن باتیں کرے ہے سب میں جاتے ہیں غش کیے ہم مشتاق منھ ادھر کر بن دیکھے تیرے میں تو بیمار ہو گیا ہوں حال تبہ میں میرے تو بھی تو ٹک نظر کر رخنے کیے جو تو نے پتھر کی سل میں تو کیا اے آہ اس صنم کے دل میں بھی ٹک اثر کر مارے سے غل کیے سے جاتا نہیں ہے ہرگز نکلے گا اس گلی سے شاید کہ میر مرکر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR