میر تقی میر میر تقی میر

آیا ہے ابر قبلہ چلا خانقاہ پر

آیا ہے ابر قبلہ چلا خانقاہ پر صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر وہ آنکھ اٹھا کے شرم سے کب دیکھے ہے ولے ہوتے ہیں خون نیچی بھی اس کی نگاہ پر بالفرض چاہتا ہے گنہ لیک میری جاں واجب ہے خون کرنا کہاں اس گناہ پر کیا بحث میرے وقر سے میں ہوں فقیر محض ہے اس گلی میں حرف و سخن عزشاہ پر تہ سے سخن کے لوگ نہ تھے آشنا عبث جاگہ سے تم گئے انھوں کی واہ واہ پر ڈر چشم شور چرخ سے گل پھول یک طرف آنکھ اس دنی کی دوڑے ہے اک برگ کاہ پر دیکھی ہے جن نے یار کے رخسار کی جھمک اس کی نظر گئی نہ شب مہ میں ماہ پر ہم جاں بہ لب پتنگوں کی سدھ لیجیو شتاب موقوف اپنا جانا ہے اب ایک آہ پر کہتے تو ہیں کہ ہم بھی تمھیں چاہتے ہیں میر پر اعتماد کس کو ہے خوباں کی چاہ پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR