میر تقی میر میر تقی میر

آیا جو اپنے گھر سے وہ شوخ پان کھاکر

آیا جو اپنے گھر سے وہ شوخ پان کھاکر کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر شاید کہ منھ پھرا ہے بندوں سے کچھ خدا کا نکلے ہے کام اپنا کوئی خدا خدا کر کان اس طرف نہ رکھے اس حرف ناشنو نے کہتے رہے بہت ہم اس کو سنا سنا کر کہتے تھے ہم کسو کو دیکھا کرو نہ اتنا دل خوں کیا نہ اپنا آنکھیں لڑا لڑا کر آگے ہی مررہے ہیں ہم عشق میں بتاں کے تلوار کھینچتے ہو ہم کو دکھا دکھا کر وہ بے وفا نہ آیا بالیں پہ وقت رفتن سو بار ہم نے دیکھا سر کو اٹھا اٹھا کر جلتے تھے ہولے ہولے ہم یوں تو عاشقی میں پر ان نے جی ہی مارا آخر جلا جلا کر سوتے نہ لگ چل اس سے اے باد تو نے ظالم بہتیروں کو سلایا اس کو جگا جگا کر مدت ہوئی ہمیں ہے واں سے جواب مطلق دفتر کیے روانہ لکھ لکھ لکھا لکھا کر کیا دور میر منزل مقصود کی ہے اپنے اب تھک گئے ہیں اودھر قاصد چلا چلا کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR