میر تقی میر میر تقی میر

دل گئے آفت آئی جانوں پر

دل گئے آفت آئی جانوں پر یہ فسانہ رہا زبانوں پر عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے رکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر گرچہ انسان ہیں زمینی ولے ہیں دماغ ان کے آسمانوں پر شہر کے شوخ سادہ رو لڑکے ظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند سیر رہتی ہے ان مکانوں پر جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع بھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر لوگ سر دیتے جاتے ہیں کب سے یار کے پاؤں کے نشانوں پر کجی اوباش کی ہے وہ دربند ڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر کوئی بولا نہ قتل میں میرے مہر کی تھی مگر دہانوں پر یاد میں اس کے ساق سیمیں کی دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر تھے زمانے میں خرچی جن کی روپے ٹھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر غم و غصہ ہے حصے میں میرے اب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر قصے دنیا میں میر بہت سنے نہ رکھو گوش ان فسانوں پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR