میر تقی میر میر تقی میر

وامق و فرہاد و مجنوں کون ہے یاروں کے بیچ

وامق و فرہاد و مجنوں کون ہے یاروں کے بیچ جو کہوں میں کوئی ہے میرے بھی غمخواروں کے بیچ جمع خوباں میں مرا محبوب اس مانند ہے جوں مہ تابندہ آتا ہے کبھو تاروں کے بیچ جو جفا عاشق پہ ہے سو اور لوگوں پر نہیں اس سے پیدا ہے کہ میں ہی ہوں گنہگاروں کے بیچ مر گئے بہتیرے صاحب دل ہوس کس کو ہوئی ایسے مرنے جینے کی ان عشق کے ماروں کے بیچ رونا کڑھنا عشق میں دیکھا مرا جن نے کہا کیا جیے گا یہ ستم دیدہ ان آزاروں کے بیچ منتظر برسوں رہے افسوس آخر مر گئے دیدنی تھے لوگ اس ظالم کے بیماروں کے بیچ خاک تربت کیوں نہ اپنی دلبرانہ اٹھ چلے ہم بھی تھے اس نازنیں کے ناز برداروں کے بیچ صاف میداں لامکاں سا ہو تو میرا دل کھلے تنگ ہوں معمورۂ دنیا کی دیواروں کے بیچ باغ میں تھے شب گل مہتاب میرے آس پاس یار بن یعنی رہا میں میر انگاروں کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR