میر تقی میر میر تقی میر

لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ

لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ ذوق صید اس کو تھا تو خیل ملک دھوم رکھتے تھے دام گاہ کے بیچ کب مزہ ہے نماز صبح میں وہ جو صبوحی کے ہے گناہ کے بیچ اس غصیلے کی سرخ آنکھیں دیکھ اٹھے آشوب خانقاہ کے بیچ جان و دل دونوں کرگئے تھے غش دیکھ اس رشک مہ کو راہ کے بیچ اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے کتنے جی مارے اک نگاہ کے بیچ سانجھ ہی رہتی پھر اگر ہوتا کچھ اثر نالۂ پگاہ کے بیچ کیا رہیں جور سے بتوں کے ہم رکھ لے اپنی خدا پناہ کے بیچ منھ کی دو جھائیوں سے مت شرما جھائیں ہوتی ہے روے ماہ کے بیچ میر بیمار ہے کہ فرق نہیں متصل اس کے آہ آہ کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR