میر تقی میر میر تقی میر

آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب

آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کرلو شتاب اب بگڑا بنا ہوں عشق سے سو بار عاقبت پایا قرار یہ کہ رہوں میں خراب اب خوں ریزی عاشقوں کی ہے ظالم اگر ثواب تو تو ہوا ہے تجھ کو بہت سا ثواب اب بھڑکی دروں میں آتش سوزندہ عشق کی دل رہ گیا ہے پہلو میں ہوکر کباب اب ہوں اس بہشتی رو سے جدا میں جحیم میں رہتا ہے میری خاک کو ہر دم عذاب اب قاصد جو آیا چپ ہے نشاں خط کا کچھ نہیں دیکھیں جو لاوے باد کوئی کیا جواب اب کیا رنج و غم کو آگے ترے میں کروں شمار یاں خود حسابی میری تو ہے بے حساب اب جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت نزدیک شاید آیا ہے ہنگام خواب اب آرام کریے میری کہانی بھی ہوچکی کرنے لگو گے ورنہ عتاب و خطاب اب جانا سبھوں نے یہ کہ تو معشوق میر ہے خلع العذار سے نہ گیا ہے حجاب اب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR