میر تقی میر میر تقی میر

اب یار دوپہر کو کھڑا ٹک جو یاں رہا

اب یار دوپہر کو کھڑا ٹک جو یاں رہا حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا جو قافلے گئے تھے انھوں کی اٹھی بھی گرد کیا جانیے غبار ہمارا کہاں رہا سوکھی پڑی ہیں آنکھیں مری دیر سے جو اب سیلاب ان ہی رخنوں سے مدت رواں رہا اعضا گداز عشق سے ایک ایک بہ گئے اب کیا رہا ہے مجھ میں جو میں نیم جاں رہا منعم کا گھر تمادی ایام میں بنا سو آپ ایک رات ہی واں میہماں رہا اس کے فریب لطف پہ مت جا کہ ہمنشیں وہ دیر میرے حال پہ بھی مہرباں رہا اب در پہ اس کے گھر کے گرا ہوں وگر نہ میں مدت خرابہ گرد ہی بے خانماں رہا ہے جان تو جہان ہے مشہور ہے مثل کیا ہے گئے پہ جان کے گو پھر جہاں رہا ترک شراب خانہ ہے پیری میں ورنہ میر ترسا بچوں ہی میں رہا جب تک جواں رہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR