Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا

پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR