Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گئے تھے سیر چمن کو اٹھ کر گلوں میں ٹک جی لگا نہ اپنا

گئے تھے سیر چمن کو اٹھ کر گلوں میں ٹک جی لگا نہ اپنا تلاش جوش بہار میں کی نگار گلشن میں تھا نہ اپنا ملا تو تھا وہ بخواہش دل مزہ بھی پاتے ملے سے لیکن پھریں جو مستی میں اس کی آنکھیں سو ہوش ہم کو رہا نہ اپنا جہاں کا دریاے بیکراں تو سراب پایان کار نکلا جو لوگ تہ سے کچھ آشنا تھے انھوں نے لب تر کیا نہ اپنا نکالی سرکش نے چال ایسی کہ دیکھ حیرت سے رہ گئے ہم دلوں میں کیا کیا ہمارے آیا کریں سو کیا بس چلا نہ اپنا کہے بھی کوئی تو اس سے جس میں سخن کسو کا اثر کرے کچھ بکا کیے ہم ہمیشہ مانا کسو دن ان نے کہا نہ اپنا نہ ہوش ہم کو نہ صبر دل کو نہ شور سر میں نہ زور پا میں جو روویں کس کس کو روویں اب ہم وفا میں کیا کیا گیا نہ اپنا جہاں میں رہنے کو جی بہت تھا نہ کرسکے میر کچھ توقف بنا تھی ناپائدار اس کی اسی سے رہنا بنا نہ اپنا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR