میر تقی میر میر تقی میر

میں ہوں خاک افتادہ جس آزار کا

میں ہوں خاک افتادہ جس آزار کا عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا بیچتا سرکیوں نہ گلیوں میں پھروں میں ہوں خواہاں لطف تہ بازار کا خون کرکے ٹک نہ دل ان نے لیا کشتہ و مردہ ہوں اس اصرار کا گھر سے وہ معمار کا جو اٹھ گیا حال ابتر ہو گیا گھر بار کا نقل اس کی بے وفائی کی ہے اصل کب وفاداری ہے شیوہ یار کا سر جو دے دے مارتے گھر میں پھرے رنگ دیگر ہے در و دیوار کا اک گداے در ہے سیلاب بہار غم کشوں کے دیدۂ خونبار کا دلبراں دل جنس ہے گنجائشی اس میں کچھ نقصاں نہیں سرکار کا عشق کا مارا ہے کیا پنپے گا میر حال ہے بدحال اس بیمار کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR