میر تقی میر میر تقی میر

دشمن ہو جی کا گاہک ہوتا ہے جس کو چاہا

دشمن ہو جی کا گاہک ہوتا ہے جس کو چاہا کی دوستی کہ یارو اک روگ میں بساہا جی ہے جہاں قیامت درد و الم رہا واں بیمار عاشقی میں شب صبح تک کراہا تازہ جھمک تھی شب کو تاروں میں آسماں کے اس آسیا کو شاید پھر کر کنھوں نے راہا خمیازہ کش ہوں اس کی مدت سے اس ادا کا لگ کر گلے سے میرے انگڑائی لے جماہا جانا کہ منھ کھلا ہے آتش کدے کا شاید سینے کے زخم سے جو سرکا ہے ٹک بھی پھاہا آنکھیں مری لگو ہیں بے جا نہیں لگیں ہیں دیکھا ہے جن نے اس کو اس نے مجھے سراہا میں راہ عشق میں تو آگے ہی دو دلا تھا پرپیچ پیش آیا ان زلفوں کا دوراہا کرنا وفا نہیں ہے آسان عاشقی میں پتھر کیا جگر کو تب چاہ کو نباہا کہتے تو تھے نہ دیکھو اس سے لگے نہ جائو سمجھے نہ دیدہ و دل اب کیا کہوں الٰہا یا مرتضیٰ علیؓ ہے تیرا گداے در یہ کر حال میر پر بھی ٹک التفات شاہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR