میر تقی میر
تھا اندوہ گرہ مدت سے دل میں خوں ہو درد ہوا
تھا اندوہ گرہ مدت سے دل میں خوں ہو درد ہوا
چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا
وعدہ خلافی اس ظالم کی کھا گئی میری جان غمیں
گرمی کرے وہ مجھ سے جب تک تب تک میں ہی سرد ہوا
گرد و غبار و دشت و وادی گریے سے میرے یک سو ہیں
رونے کے آگے ان کے تو دریا بھی میر اب گرد ہوا