میر تقی میر میر تقی میر

موئے ہم جس کی خاطر بے وفا تھا

موئے ہم جس کی خاطر بے وفا تھا نہ جانا ان نے تو یوں بھی کہ کیا تھا معالج کی نہیں تقصیر ہرگز مرض ہی عاشقی کا لا دوا تھا نہ خود سر کیونکے ہوں ہم یار اپنا خودآرا خودپسند و خودستا تھا رکھا تھا منھ کبھو اس کنج لب پر ہمارے ذوق میں اب تک مزہ تھا نہ ملیو چاہنے والوں سے اپنے نہ جانا تجھ سے یہ کن نے کہا تھا پریشاں کر گئی فریاد بلبل کسو سے دل ہمارا پھر لگا تھا ملے برسوں وہی بیگانگی تھی ہمارے زعم میں وہ آشنا تھا نہ دیوانے تھے ہم سے قیس و فرہاد ہمارا طور عشق ان سے جدا تھا بدن میں صبح سے تھی سنسناہٹ انھیں سنّاہٹوں میں جی جلا تھا صنم خانے سے اٹھ کعبے گئے ہم کوئی آخر ہمارا بھی خدا تھا بدن میں اس کے ہے ہرجاے دلکش جہاں اٹکا کسو کا دل بجا تھا کوئی عنقا سے پوچھے نام تیرا کہاں تھا جب کہ میں رسوا ہوا تھا چڑھی تیوری چمن میں میر آیا کلک خسپ آج شاید کچھ خفا تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR