میر تقی میر میر تقی میر

بے طاقتی نے دل کی گرفتار کردیا

بے طاقتی نے دل کی گرفتار کردیا اندوہ و درد عشق نے بیمار کردیا دروازے پر کھڑا ہوں کئی دن سے یار کے حیرت نے حسن کی مجھے دیوار کردیا سائے کو اس کے دیکھ کے وحشت بلا ہوئی دیوانہ مجھ کو جیسے پریدار کردیا نسبت ہوئی گناہوں کی از بس مری طرف بے جرم ان نے مجھ کو گنہگار کردیا دن رات اس کو ڈھونڈے ہے دل شوق نے مجھے نایاب کس گہر کا طلبگار کردیا دور اس سے زار زار جو روتا رہا ہوں میں لوگوں کو میری زاری نے بیزار کردیا خوبی سے بخت بد کی اسے عشق سے مرے یاروں نے رفتہ رفتہ خبردار کردیا جس کے لگائی جی میں نہ اس کے ہوس رہی یعنی کہ ایک وار ہی میں پار کردیا پہلو میں دل نے لوٹ کے آتش سے شوق کی پایان کار آنکھوں کو خونبار کردیا کیا جانوں عشق جان سے کیا چاہتا ہے میر خوں ریزی کا مجھے تو سزاوار کردیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR